وقت کا مسافر
جمعرات 21 اگست 2025
تحریر :06
ہماری اردو کہانیاں
حامد ایک ذہین مگر لاپرواہ لڑکا تھا۔ اسکول کے اساتذہ اُس کی ذہانت کے قائل تھے، لیکن اس کی غیر سنجیدگی اور وقت ضائع کرنے کی عادت سب کو مایوس کر دیتی تھی۔ وہ گھنٹوں موبائل، ویڈیو گیمز اور فضول مشغلوں میں مصروف رہتا، اور جب ماں باپ یا اساتذہ وقت کی اہمیت کا درس دیتے، تو وہ کندھے اچکا کر ہنسی میں ٹال دیتا۔ اسے لگتا تھا کہ وقت بس گزارنے کی چیز ہے، سنوارنے کی نہیں۔ ایک روز اسکول سے واپسی پر وہ لائبریری کے پرانے، بند پڑے کمرے کی کھڑکی کے پار جھانک رہا تھا۔ دروازہ آہستہ سے کھلا تو تجسس غالب آیا اور وہ اندر داخل ہو گیا۔ گرد و غبار سے بھرا ہوا وہ کمرہ جیسے برسوں سے کسی کا منتظر تھا۔ کونے میں ایک پرانی میز پر ایک انوکھی گھڑی رکھی تھی۔ وہ عام گھڑیوں سے مختلف تھی۔ اس کے اندر کی سوئیاں معمول سے تیز حرکت کر رہی تھیں، اور درمیان میں ایک چمکتا ہوا بٹن تھا، جس پر عجیب حروف کندہ تھے۔ حامد نے بنا سوچے سمجھے بٹن دبا دیا۔ اچانک ایک روشنی سی پھیلی اور منظر بدلنے لگا۔ دیواریں، فرش اور کھڑکیاں دھند میں چھپ گئیں، اور چند لمحوں بعد حامد نے خود کو اپنے ہی محلے میں پایا، مگر سب کچھ بدلا بدلا سا تھا۔ لوگ پرانے لباس میں تھے، گلیاں سادہ، اور ماحول میں ایک پرانی سی خوشبو۔ تبھی اُس کی نظر ایک بارہ سالہ بچے پر پڑی جو حیرت انگیز طور پر اس کے والد سے مشابہ تھا۔ وہی چہرہ، وہی آنکھیں، اور وہی انداز۔ حامد نے دیکھا کہ وہ بچہ اسکول کے بعد سبزی کی دکان پر کام کرتا، پھر گھر جا کر پڑھائی کرتا، اور شام کو لائبریری جاتا۔ وہ مشقت، نظم و ضبط اور وقت کی پابندی کا عملی نمونہ تھا۔ حامد حیرت زدہ ہو گیا۔ اسے لگا کہ اُس کے والد ہمیشہ کامیاب تھے، مگر آج وہ جان گیا کہ ان کی کامیابی کے پیچھے برسوں کی قربانی اور وقت کی بے پناہ قدر چھپی تھی۔ تبھی ایک بوڑھے بزرگ نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور نرم لہجے میں بولے، “بیٹا! وقت خزانہ نہیں، زندگی کی سانسیں ہیں۔ جو انہیں ضائع کرتا ہے، وہ خود کو کھو دیتا ہے۔” حامد نے پلٹ کر دیکھا تو وہ بزرگ غائب ہو چکے تھے۔ ابھی وہ اس سوچ میں ہی تھا کہ گھڑی کی سوئیاں پھر سے چمکنے لگیں، اور ایک اور جھماکہ ہوا۔ اب کی بار وہ ایک سنسان، خاموش کمرے میں کھڑا تھا۔ دیواروں پر وقت کی تصویریں تھیں، کھڑکی سے غروب ہوتا سورج دکھائی دے رہا تھا، اور کمرے میں ایک نوجوان بیٹھا تھا جو خود سے باتیں کر رہا تھا۔ حامد نے قریب جا کر دیکھا تو دم بخود رہ گیا۔ وہ نوجوان خود حامد ہی تھا، مگر دس برس بعد۔ وہ نوجوان افسردہ، مایوس اور تھکا ہوا لگ رہا تھا۔ آنکھوں میں حسرت تھی، ہاتھ میں خالی کاغذات۔ وہ بڑبڑا رہا تھا، “کاش اُس وقت پڑھ لیتا... کاش وقت کو ضائع نہ کرتا... آج سب کچھ ہوتا، مگر میں نے خود کو ہی کھو دیا...” حامد کا دل ڈوبنے لگا۔ وہ اپنی آنکھوں سے اپنے انجام کی تصویر دیکھ رہا تھا، ایک ایسا مستقبل جو اُس کی آج کی غفلت کا نتیجہ تھا۔ اب گھڑی دوبارہ روشن ہوئی۔ حامد نے خوف و امید کے امتزاج میں گھڑی کو دبایا، اور اگلے ہی لمحے وہ واپس اپنے کمرے میں تھا۔ سب کچھ ویسا ہی تھا، وہی کمرہ، وہی میز، وہی موبائل، مگر کچھ بدل چکا تھا۔ اس کے دل میں جیسے ایک نئی روشنی جاگ چکی تھی۔ اُس نے خاموشی سے موبائل بند کیا، کتابیں کھولیں، اور دلجمعی سے پڑھنے بیٹھ گیا۔ اُس دن کے بعد سے حامد نے اپنا معمول تبدیل کر لیا۔ وہ صبح جلدی اُٹھتا، اسکول کے کام وقت پر کرتا، دوستوں کے ساتھ کھیلتا ضرور، مگر ہر لمحے کو قیمتی سمجھتا۔ چند مہینے گزرے۔ حامد اب اسکول کے بہترین طلبا میں شامل تھا۔ اساتذہ اس کی تعریف کرتے، والدین خوشی سے جھومتے۔ وہ اپنی کہانی دوسروں کو بھی سناتا، تاکہ کوئی اور بچہ وقت ضائع کرنے کی قیمت ادا نہ کرے۔ حامد کے میز پر وہ گھڑی آج بھی رکھی ہے، خاموش، مگر بولتی ہوئی۔ وہ گھڑی اب ٹائم ٹریول کی نہیں، وقت کی قدر کی علامت ہے

