نصحیت
جمعرات 21 اگست 2025
تحریر: 07
ہماری اردو کہانیاں
ایک شکاری نے کنڈی میں گوشت کی بوٹی لگا کر دریا میں پھینکی۔ ایک مچھلی اسے کھانے دوڑی۔ وہیں ایک بڑی مچھلی نے اسے روکا کہ اسے منہ نہ لگانا، اس کے اندر ایک چھپا ہوا کانٹا ہے جو تجھے نظر نہیں آرہا۔ بوٹی کھاتے ہی وہ کانٹا تیرے حلق میں چبھ جائے گا، جو ہزار کوششوں کے بعد بھی نہیں نکلے گا۔ تیری تڑپنے سے باہر بیٹھے شکاری کو اس باریک ڈوری سے خبر ہو جائے گی۔ تو تڑپے گی، وہ خوش ہوگا، اس باریک ڈور کے ذریعے تجھے باہر نکالے گا، چھری سے تیرے ٹکڑے کرے گا، مرچ مصالحہ لگا کر آگ پر ابلتے تیل میں تجھے پکائے گا، 10، 10 انگلیوں والے انسان 32، 32 دانتوں سے چبا چبا کر تجھے کھائیں گے۔ یہ تیرا انجام ہوگا۔
بڑی مچھلی یہ کہہ کر چلی گئی۔
چھوٹی مچھلی نے دریا میں ریسرچ شروع کر دی، نہ شکاری، نہ آگ، نہ کھولتا تیل، نہ مرچ مصالحہ، نہ دس دس انگلیوں اور بتیس بتیس دانتوں والے انسان، کچھ بھی نہیں تھا۔
چھوٹی مچھلی کہنے لگی: یہ بڑی مچھلی ان پڑھ جاہل، پتھر کے زمانے کی باتیں کرنے والی ہے۔ کوئی حقیقت نہیں اس کی باتوں میں۔ میں نے خود ریسرچ کی ہے، اس کی بتائی ہوئی کسی بات میں بھی سچائی نہیں، میرا ذاتی مشاہدہ ہے۔ وہ ایسے ہی سنی سنائی، نام نہاد غیبی باتوں پر یقین کیے بیٹھی ہے۔ اس ماڈرن سائنسی دور میں بھی پرانے فرسودہ نظریات لیے ہوئے ہے۔
چنانچہ اس نے اپنے ذاتی مشاہدے کی بنا پر بوٹی کو منہ ڈالا، کانٹا چبھا، مچھلی تڑپی، شکاری نے ڈور کھینچ کر باہر نکالا، آگے بڑی مچھلی کے بتائے ہوئے سارے حالات سامنے آگئے۔
انبیاء علیہم السلام نے انسانوں کو موت کا کانٹا چبھنے کے بعد پیش آنے والے غیب کے سارے حالات و واقعات تفصیل سے بتا دیے ہیں۔ بڑی مچھلی کی طرح کے عقلمند انسانوں نے انبیاء کی باتوں کو مان کر زندگی گزارنی شروع کر دی۔ چھوٹی مچھلی والے نظریات رکھنے والے انبیاء کا راستہ چھوڑ کر اپنی ظاہری ریسرچ کے راستہ پر چل پڑے۔ موت کا کانٹا چبھنے کے بعد سارے حالات سامنے آ جائیں گے۔ مچھلی پانی سے نکلی، واپس نہ گئی۔ انسان دنیا سے گیا، واپس نہ آیا۔
......بس یہی وقت ہے، اگر سمجھ گئے تو۔
