شعیب مرزا — بچوں کے دلوں کا چراغ، ادب کا خاموش سپاہی
ہفتہ 23 اگست 2025
تحریر08
محمد حامد مختار کھوکھر سندھیلیانوالی
ادب ایک ایسا چراغ ہے جو نہ صرف دلوں کو روشن کرتا ہے بلکہ روح کو بھی جلا بخشتا ہے۔ اگر ہم بات کریں ادبِ اطفال کی، تو یہ وہ زرخیز میدان ہے جہاں بیج پھینکنے والے ہاتھ بہت کم ہیں، لیکن ان میں جو لوگ خلوص، محبت اور فکری بصیرت کے ساتھ کام کر رہے ہیں، ان میں ایک نام نہایت محبت، خلوص اور احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے: شعیب مرزا۔ف
شعیب مرزا ایک معروف اردو ادیب، صحافی اور مدیر ہیں، جنہوں نے پاکستان میں بچوں کے ادب کو نئی سمت عطا کی۔ وہ کئی دہائیوں سے بچوں کے مشہور رسالے ماہنامہ "پھول" کے مدیر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ لاہور سے شائع ہونے والا یہ رسالہ صرف ایک اشاعت نہیں، بلکہ اردو زبان و ادب کا زندہ اور تربیتی آئینہ ہے۔ شعیب مرزا کی ادارت میں اس مجلے نے ایک نئی جہت پائی، جس میں نہ صرف کہانیاں، نظمیں اور مضامین شامل ہوتے ہیں، بلکہ اخلاقی تربیت، اسلامی اقدار اور فکری نشوونما کو بھی اولین حیثیت حاصل ہے۔
شعیب مرزا نے جب اپنے قلمی سفر کا آغاز کیا تو ان کے سامنے صرف الفاظ کا کھیل نہیں تھا، بلکہ ان کے ذہن میں ایک مقصد، ایک نصب العین تھا:
"بچوں کی تربیت ایسی ہو جو انہیں صرف پڑھنا نہیں، سوچنا بھی سکھائے۔"
انہوں نے صرف ایک مدیر کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ادبی مربّی کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔ اُن کا قلم ایک استاد کی طرح بچوں کو نہایت خوبصورتی سے ادب، اخلاق، تہذیب اور زبان کے اسرار و رموز سکھاتا ہے۔ر
1990 کے عشرے میں جب "پھول" نے باقاعدہ اشاعت کا آغاز کیا، تو یہ ایک عام رسالے کی طرح تھا، مگر جب شعیب مرزا اس کے اداری منصب پر فائز ہوئے، تو یہ رسالہ صرف کہانیوں کا مجموعہ نہیں رہا، بلکہ ایک نظریاتی پلیٹ فارم بن گیا۔ ان کی رہنمائی میں:
-
بچوں کے لیے اسلامی اور قومی شعور اجاگر کیا گیا۔
-
وطن سے محبت، بزرگوں کا احترام، علم کا تقدس اور امن و محبت کے پیغامات کو عام کیا گیا۔
-
نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی گئی، تاکہ ادبِ اطفال میں تازہ خون شامل ہو۔
ان کے ادارتی نوٹس نہایت شگفتہ، سادہ مگر فکر انگیز ہوتے ہیں۔ اُن کا اسلوب نہ خشک ہوتا ہے، نہ رسمی، بلکہ محبت، سادگی اور معنویت کا حسین امتزاج ہوتا ہے۔ن
اگست کا مہینہ شعیب مرزا کے چاہنے والوں کے لیے ایک خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اسی ماہ ان کی سالگرہ آتی ہے۔ مگر یہ سالگرہ صرف تاریخ کا ایک دن نہیں، بلکہ ادبِ اطفال کے ایک مشعل بردار کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع ہے۔ ان کے لیے بچوں کی محبت، اُن کی تحریریں، اور اُن کی کامیابیاں ہی اصل تحفے ہیں۔ر
شعیب مرزا ایک ایسے مدیر ہیں جنہوں نے نہایت خاموشی اور وقار کے ساتھ اس ادارتی سفر کو جاری رکھا۔ وہ نہ شہرت کے طلبگار ہیں، نہ واہ واہ کے محتاج۔ ان کے نزدیک سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ:
"بچہ اگر میری لکھی ہوئی ایک بات سے کچھ سیکھ لے، تو یہی میری کامیابی ہے۔"
ان کی ادارت میں رسالے کی پیشکش، طباعت، مضامین کا انتخاب، قارئین سے تعلق، اور نئے لکھنے والوں کی راہنمائی — ہر پہلو میں سنجیدگی، محبت اور تدبر کی جھلک نظر آتی ہے۔ن
شعیب مرزا کا نظریہ ہے کہ ادب تفریح کے ساتھ ساتھ تربیت کا ذریعہ بھی ہونا چاہیے۔ وہ یہ بات شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ اگر ہم نے بچوں کی سوچ کو ابھی سے سنوارا نہ، تو کل ہم ایک بے حس، غیر سنجیدہ اور لاپرواہ نسل دیکھیں گے۔ ان کا وژن بچوں میں:
-
حب الوطنی،
-
دینی شعور،
-
اخلاقی جراءت،
-
اور فکری بلندی پیدا کرنا ہے۔
ان کے مضامین اور ادارتی نوٹس ہمیشہ کسی نہ کسی سماجی یا اخلاقی موضوع پر ہوتے ہیں۔ اُن کے قلم میں نہ وعظ ہے، نہ جھاڑ پھٹکار، بلکہ محبت، سمجھداری اور حکمت سے مزین اندازِ تحریر ہوتا ہے۔ن
شعیب مرزا کی شخصیت صرف ان کے قلم یا دفتر تک محدود نہیں، بلکہ وہ بچوں سے دل سے محبت کرتے ہیں۔ اکثر اسکولوں میں ہونے والی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں، نوجوان لکھاریوں کی تحریریں پڑھ کر اُنہیں حوصلہ دیتے ہیں، خطوط کے ذریعے بچوں سے رابطہ رکھتے ہیں، اور اکثر اُن کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی بڑی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ف
ان کی خدمات کے اعتراف میں کئی اداروں نے انہیں تعریفی اسناد اور ایوارڈز سے نوازا۔ 2010 میں، اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ماہنامہ پھول کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا:
"یہ رسالہ نوجوان نسل کی تربیت اور تفریح کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔"
یہ تعریفی کلمات دراصل شعیب مرزا کی انتھک محنت اور اخلاص کی گواہی ہیں۔
شعیب مرزا اُن روشن لوگوں میں سے ہیں جو شور نہیں کرتے، بلکہ کام کرتے ہیں۔ اُن کا قلم خاموشی سے دلوں پر اثر کرتا ہے، اُن کا کردار ادب میں روشنی کی صورت بکھرتا ہے، اور اُن کی شخصیت بچوں کے لیے ایک نرمی بھرا سایہ ہے۔
آج جب اردو زبان نت نئی چیلنجز سے گزر رہی ہے، ایسے وقت میں شعیب مرزا جیسے لوگ ہی ہیں جو اس زبان اور اس کی نسلِ نو کو ادب، اخلاق اور تربیت سے جوڑے رکھے ہوئے ہیں۔
ہم دعا گو ہیں کہ شعیب مرزا صاحب صحت، کامیابی اور عزت کے ساتھ اس سفر کو جاری رکھیں، اور "پھول" اسی طرح محبتوں، تحریروں اور روشنیوں سے مہکتا رہے۔

