خاموش پرندے
اتوار 12 اکتوبر 2025
تحریر 12
شاہد انور شیرازی۔مردان
شام کا سورج اُفق کے پار ڈھل چکا تھا۔ آسمان سنہری نارنجی روشنی میں ڈوبا ہوا تھا۔ درختوں کے سائے لمبے ہو کر زمین سے باتیں کر رہے تھے۔ شہر کے ایک پرانے، خاموش علاقے میں ایک چھوٹی سی بالکونی تھی جہاں ایک بچی، حیا، خاموشی سے بیٹھی تھی۔ اس کے سامنے ایک پنجرے میں دو سفید کبوتر بیٹھے تھے، ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے — جیسے سردی میں کوئی ماں اپنے بچوں کو چھپا لیتی ہے۔
حیا کے چہرے پر ایک عجیب اُداسی تھی۔ اس کی آنکھوں میں سوالات تھے — وہ سوال جو نہ کتابوں میں تھے، نہ کسی نے کلاس میں سکھائے تھے، مگر اس کے دل میں ہلچل مچائے رکھتے تھے۔
"امی، ان پرندوں کی آواز کیوں بند ہے؟ یہ بولتے کیوں نہیں؟"
حیا نے اچانک ماں سے سوال کیا، جو قریب ہی بھنڈی کاٹ رہی تھیں۔
ماں نے چاقو روکتے ہوئے ایک گہری سانس لی، پھر آہستہ سے کہا،
"کیونکہ بیٹا، یہ قید میں ہیں۔ قید آواز چھین لیتی ہے۔ آزادی صرف اُڑنے کی نہیں ہوتی، بولنے کی بھی ہوتی ہے۔"
حیا خاموش ہو گئی۔ کچھ دیر وہ ان پرندوں کو دیکھتی رہی۔ ان کی آنکھوں میں، ان کے ساکت پروں میں، ایک ایسی کہانی چھپی تھی جسے صرف دل ہی پڑھ سکتا تھا۔
اچانک اس نے اپنے دادا ابو کو یاد کیا — جو کبھی کبھار پرانے وقتوں کی باتیں سناتے تھے۔ وہ آہستہ سے نیچے اُتری اور دادا ابو کے کمرے میں داخل ہوئی۔
"دادا ابو… السلام علیکم!"
حیا نے دادا ابو کو سلام کیا۔
"وعلیکم السلام، بیٹا۔۔۔"
دادا ابو نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
"دادا ابو! کبھی انسان بھی خاموش پرندہ بن جاتا ہے؟"
دادا ابو، جو اپنے پرانے کاغذات میں مصروف تھے، چونک گئے۔ وہ کچھ لمحے حیا کو دیکھتے رہے، جیسے وہ اس کی عمر سے بڑی بات سن کر حیران ہو گئے ہوں۔
"بیٹا… یہ سوال تم نے کیوں کیا؟"
حیا نے پنجرے کا منظر سنایا، پھر ماں کی بات دہرائی۔ دادا ابو مسکرائے، لیکن ان کی مسکراہٹ میں کوئی دُکھ چھپا تھا۔
"ہاں، بعض اوقات انسان بھی خاموش پرندہ بن جاتا ہے۔"
"کیوں؟"
"کیونکہ دُنیا میں کچھ طاقتیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف جسم کو نہیں، رُوح کو بھی قید کر دیتی ہیں۔ جیسے جب ہم غلام تھے — بولنا بھی جرم تھا۔ سچ کہنے پر زبان کاٹی جاتی تھی، خواب دیکھنے پر آنکھیں بند کرا دی جاتیں۔"
حیا کی آنکھوں میں حیرت تھی۔
"کیا آپ نے بھی کبھی خاموشی برداشت کی تھی، دادا ابو؟"
دادا ابو کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا۔
"ہاں۔ اُس وقت جب ایک اخبار میں سچ لکھا، اور اگلے دن وہ اخبار بند کر دیا گیا۔ اُس وقت جب میں نے اسکول میں قائداعظم کی تصویر لگائی، اور ماسٹر صاحب نے کہا: 'یہ کیا ہے؟ یہ تو غدّاری ہے۔۔۔'"
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
"بیٹا، خاموش پرندے وہ ہوتے ہیں جن کے پاس آواز ہو، مگر وہ بولنے کا حق نہ رکھیں۔ جیسے وہ سفید کبوتر، جو امن کی علامت ہیں… مگر جب انھیں قید کر لیا جائے، تو وہ صرف زندہ ہوتے ہیں — آزاد نہیں۔"
حیا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
"تو کیا ہم انھیں آزاد کر دیں، دادا ابو؟"
دادا ابو نے حیا کا ہاتھ تھاما۔
"اگر تم انھیں آزاد کرو گی، تو وہ اُڑ جائیں گے — شاید واپس نہ آئیں۔ لیکن ان کی خاموشی ختم ہو جائے گی۔ ان کے پر پھڑپھڑائیں گے، وہ فضا میں اُڑیں گے، اور دنیا کو بتائیں گے کہ وہ اب آزاد ہیں۔"
حیا نے پلکیں جھپکیں، جیسے وہ ایک فیصلہ کر چکی ہو۔ وہ اُٹھی، بالکونی میں گئی، اور پنجرے کا دروازہ کھول دیا۔
کبوتر پہلے ساکت رہے، پھر ایک نے ہلکی سی چونچ ماری، دوسرے نے پروں کو جھٹکا دیا، اور پھر دونوں ایک ساتھ اُڑ گئے۔
ان کے اُڑنے کی آواز، ان کے پروں کی سرسراہٹ — جیسے خاموشی ٹوٹ رہی ہو۔
حیا نے سر اُٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا۔ وہ کبوتر اب سورج کے اُترتے سائے میں چھوٹے نقطے بن گئے تھے، مگر ان کی آزادی کی صدا ہر طرف گونج رہی تھی۔
پیچھے ماں آ گئیں، اور حیرت سے دیکھنے لگیں۔
"بیٹا، تم نے انھیں آزاد کر دیا؟"
حیا نے ہاں میں سر ہلایا۔
"امی، یہ پرندے خاموش تھے، مگر ان کی خاموشی مجھے چیخوں کی طرح سنائی دیتی تھی۔ میں انھیں آزاد دیکھنا چاہتی تھی، جیسے دادا ابو نے پاکستان کو آزاد دیکھا تھا۔"
ماں کی آنکھیں پُرنم ہو گئیں۔
"تم نے جو سمجھا، وہ بہت کم بچے سمجھتے ہیں۔ خاموش پرندے صرف آسمان میں اُڑنے کے لیے نہیں، دلوں میں اُمید جگانے کے لیے ہوتے ہیں۔"
اسی لمحے دادا ابو دروازے پر آئے۔
"آج تم نے نہ صرف ان پرندوں کو آزاد کیا، بلکہ اپنے اندر کے خوف کو بھی۔ اور یاد رکھو… جب دل آزاد ہو، تو انسان کبھی خاموش نہیں رہتا۔"
حیا کی مسکراہٹ میں اب روشنی تھی۔
وہ جان چکی تھی کہ صرف آواز ہی اظہار نہیں ہوتی — جذبہ، عمل اور سچائی بھی اپنی صدا رکھتے ہیں۔
اُس دن جب وہ رات کو سوئی، تو خواب میں دیکھا —
وہ خود ایک پرندہ ہے، سفید، ہلکا، نرماہٹ سے بھرا ہوا…
جو آسمان پر اُڑ رہا ہے، اور نیچے زمین پر ہر بچے کے دل میں ایک چھوٹا سا بیج گرا رہا ہے —
آزادی کا بیج… سچ کا… محبت کا۔