انوکھی عید
جمعرات 25 دسمبر 2025
تحریر 15
شاہد انور شیرازی۔۔۔ مردان
شہر کی سردیوں کی وہ صبح کچھ الگ سی تھی۔ سورج ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوا تھا، مگر اس کی ہلکی سنہری روشنی سرد آسمان کو ذرا سا گرم دکھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ ہوا میں ایک مانوس سی خوشبو رچی ہوئی تھی—پائن کے درختوں کی، جلتی لکڑی کی، اور تہواروں کی آمد کی۔
شہر کی گلیاں آہستہ آہستہ جاگ رہی تھیں۔ کہیں گھروں سے قرآنِ پاک کی تلاوت کی آوازیں آ رہی تھیں، شہر کے اکلوتےچرچ کی گھنٹیاں بج رہی تھیں۔
یہ 25 دسمبر کی صبح تھی۔
پاکستان بھر میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کا یومِ پیدائش منایا جا رہا تھا،
اور مسیحی برادری کے لیے یہ کرسمس کی عید تھی۔
انھی گلیوں میں ایک سادہ مگر پکا ہوا گھر تھا، جس کے باہر ایک پائن کا درخت لگا تھا۔ اس درخت کو رنگ برنگی ننھی ننھی لائٹوں سے سجایا گیا تھا۔
یہ گھر مینوئل مسیح کا تھا۔
مینوئل مسیح پچیس برس کے قریب عمر کا دُبلا پتلا، بھولی بھالی صورت والا نوجوان تھا جو رکشہ چلاتا تھا۔ اس کے چہرے پر ہمیشہ ایک ایسا اعتماد جھلکتا تھا جو زندگی کے ہر درد کے باوجود مسکراہٹ سے ہار نہیں مانتا تھا۔ آج اس کی مصروفیات معمول سے کہیں زیادہ تھیں، مگر دل میں ایک عجیب سا جوش بھی موجزن تھا۔
وہ آج وقت سے پہلے جاگ گیا تھا۔
اس نے کھڑکی کھولی۔ ٹھنڈی ہوا اندر آئی اور اس کے چہرے سے ٹکرائی۔
“واہ… آج تو ہوا بھی عید کا گیت گا رہی ہے۔” اس نے خود سے کہا۔
اس نے جلدی جلدی چرچ جانے کے کپڑے نکالے، فرش کی ٹھنڈک کے باوجود ننگے پاؤں ہی جوتے پالش کیے، اور میز پر رکھے چھوٹے سے پاکستانی پرچم کو ذرا سا سیدھا کیا۔
اتنے میں اس کی ماں، مارگریٹ بی بی، کھانستے ہوئے کچن سے نکلی۔
“بیٹا! آج اتنی جلدی؟”
“امی! آج میری دو عیدیں ہیں نا۔کرسمس بھی اور قائداعظمؒ کا دن بھی۔ پہلے چرچ جاؤں گا، پھر سرکاری تقریب دیکھوں گا۔”
ماں مسکرا دی۔
“تُو تو شروع سے ہی مختلف تھا۔ ہر تہوار تجھے دوگنا نظر آتا ہے۔”
مینوئل قریب آیا۔
“امی… قائداعظمؒ نے سب کے لیے ایک ملک بنایا تھا۔ ہم بھی اس ملک کا حصہ ہیں نا، اس لیے میں دونوں خوشیاں مناؤں گا۔”
ماں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
اس کی آواز میں فخر تھا، مگر آنکھوں میں ایک ہلکی سی اُداسی بھی—شاید غربت کی، شاید دن بھر کی فکر کی، یا شاید زندگی کی تھکن کی۔
چرچ خوب صورت رنگوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ دیواروں پر برف کے فوم سے بنے ستارے جگمگا رہے تھے۔ گھنٹیوں کی آواز فضا میں پھیل کر دلوں کو ایک عجب سی گرمی دے رہی تھی۔
مینوئل دُعا کے لیے کھڑا ہوا اور آنکھیں بند کر لیں۔
“اے خدا… آج سب کے لیے خیر کرنا۔ پاکستان کے لیے بھی، اس ملک کے لیے جس نے مجھے پہچان دی، اور میری ماں کے لیے بھی…”
دُعا کے بعد پادری صاحب نے سب میں چھوٹے چھوٹے تحفے تقسیم کیے۔
مینوئل نے اپنا تحفہ ایک یتیم بچے کے ہاتھ میں تھما دیا۔
“یہ رکھ لو… آج تمھاری بھی کرسمس ہے۔”
بچہ حیران رہ گیا۔
“بھائی! آپ کیوں دے رہے ہیں؟”
مینوئل مسکرا دیا۔
“جب خوشی بانٹی جائے، تبھی اصل عید بنتی ہے۔”
چرچ سے نکل کر مینوئل سیدھا ضلعی کچہری کے سامنے ہونے والی تقریب میں پہنچا۔ وہاں پاکستانی پرچم فخر سے لہرا رہا تھا۔ بینڈ کی دھنیں فضا میں گھل رہی تھیں۔ بچے ہاتھوں میں سبز ہلالی جھنڈے اور قائداعظمؒ کی تصویریں لیے خوشی سے اُچھل رہے تھے۔
مینوئل خاموشی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔
اس نے ایک ہاتھ میں پاکستانی پرچم اور دوسرے ہاتھ میں قائداعظمؒ کی تصویر آہستہ سے بلند کی—جیسے اپنی قوم کو خاموش سلام پیش کر رہا ہو۔
ایک شخص اس کے قریب آیا۔
“بیٹا! تم بھی تقریب میں شریک ہونے آئے ہو؟”
“جی سر… میں پاکستانی ہوں۔ یہ دن میرے لیے بھی خاص ہے۔”
وہ شخص مسکرا یا اور اس کے کندھے کو تھپتھپایا گویا اس کو شاباش دے رہے ہوں۔
دوپہر کے وقت مینوئل بازار کی طرف گیا۔ وہ ہر سال کرسمس کے موقع پر رکشہ لے کر محلے والوں کو مفت سواری دیا کرتا تھا۔ آج بھی اس نے رکشہ خوب صاف کیا تھا اور اس کی چھت پر لکھا تھا:
**“Merry Christmas & Quaid Day”**
کوئی چرچ جا رہا تھا، کوئی گھر، کوئی تقریب میں۔
مینوئل سب کو عزت و احترام کے ساتھ بٹھا کر منزل تک پہنچاتا جا رہا تھا۔
بچے اس کے رکشے کو ہنستے ہوئے “دو تہواروں والا رکشہ” کہہ رہے تھے۔
ایک بچی نے پوچھا:
“چاچو! آج آپ کی کرسمس بھی ہے، پھر آپ کام کیوں کر رہے ہیں؟”
مینوئل مسکرا کر بولا:
“بیٹا! خوشیوں کا اصل مقصد دوسروں کو خوش کرنا ہوتا ہے۔ تم لوگوں کو ہنستا دیکھ کر مجھے خود عید لگتی ہے۔”
شام ڈھلتے ہی رکشے کا ایک ٹائر اچانک پھٹ گیا۔
مینوئل سڑک کے کنارے ٹائر بدلنے لگا۔ ہوا مزید ٹھنڈی ہو چکی تھی اور آسمان پر ہلکے ہلکے بادل تیر رہے تھے۔
اسی دوران اس نے قریب چائے کی دُکان پر چند لوگوں کو طنز کرتے سنا۔
“یہ مسیحی بھی نا… ایک دن کی چھٹی ملے تو چراغاں شروع کر دیتے ہیں۔”
“پتا نہیں کس خوشی میں اتنے خوش ہوتے ہیں؟“
مینوئل کے ہاتھ رُک گئے۔
دل دکھا، آنکھیں آنسوٶں، سے بھر گٸیں، مگر اس نے سر جھکا کر خود کو سنبھال لیا۔
“یا خدا… لوگوں کے دلوں میں محبت ڈال دے…”
شام ہوتے ہی محلہ روشنیوں میں نہا گیا۔ ہر گھر میں چراغ، موم بتیاں اور لائٹیں جل رہی تھیں۔ فضا میں کیک اور میٹھی روٹیوں کی خوشبو رچی ہوئی تھی۔
مینوئل گھر لوٹا تو ماں نے آہستہ سے دروازہ کھولا۔
“بیٹا… میں نے تمھارے لیے خصوصی کیک بنایا ہے۔ آج تم نے پورا دن لوگوں کی خدمت میں گزار دیا، اب اپنی کرسمس بھی منا لو۔”
مینوئل نے ماں کو گلے لگا لیا۔
“امی… میری کرسمس تو وہیں شروع ہو گئی تھی جہاں میں نے دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھی۔”
میز پر دو پلیٹیں تھیں، ایک چھوٹا سا کیک، اور ساتھ رکھی دو تصویریں—ایک پاکستانی پرچم کی، دوسری قائداعظمؒ کی۔
کھانا لگاتے ہوئے مینوئل اچانک باہر نکلا اور گلی کے بچوں کو آواز دی۔
“آؤ! آج میں تمھیں دو عیدوں کی کہانی سناؤں گا۔”
درجنوں بچے جمع ہو گئے—مسلمان، مسیحی، ہندو اور سکھ۔
مینوئل نے کہا:
“آج کرسمس بھی ہے اور قائداعظمؒ کا دن بھی۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ ملک ہم سب کا ہے۔ ہماری خوشیاں برابر ہیں۔”

