اتوار 19 اکتوبر 2025
تحریر 14
محمد حامد مختار کھوکھر ، سندھیلیانوالی
ایک خوبصورت اور پرسکون گاؤں میں ایک چھوٹے سے گھر میں ایک ننھا سا بچہ اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتا تھا۔ سب لوگ اُسے "چھوٹا شہزادہ" کہہ کر بلاتے تھے کیونکہ وہ نہ صرف نہایت خوبصورت تھا بلکہ بہت لاڈلا اور چہیتا بھی تھا۔ اس کے گال سیب کی طرح گلابی، آنکھیں چمکدار اور مسکراہٹ دل موہ لینے والی تھی۔
چھوٹا شہزادہ ابھی اسکول نہیں جاتا تھا۔ اس کا بڑا بھائی اور کزن روزانہ اسکول چلے جاتے، اور وہ گھر میں اپنی ماما کے ساتھ وقت گزارتا۔ چونکہ وہ گھر میں اکیلا ہوتا، اس لیے اس کے پاس کھلونوں کی بھرمار تھی—کاریں، جہاز، ٹرینیں، جانور، بلاکس، رنگ برنگی گیندیں، اور گڑیاں۔ جب بھی وہ کھیلنے لگتا، پورا کمرہ جیسے ایک میلہ بن جاتا۔ کھلونے فرش پر، میز پر، صوفے کے نیچے، اور یہاں تک کہ کچن کے دروازے تک بکھرے ہوتے۔
مگر وہ بس کھیلنے میں مگن رہتا، اسے نہ صفائی کی پرواہ ہوتی، نہ ترتیب کی۔ اور ہر شام جب ماما پورا گھر صاف کرتے کرتے تھک جاتیں تو انہیں سب سے زیادہ وقت اس کے بکھیرے ہوئے کھلونوں کو سمیٹنے میں لگتا۔
ایک دن ماما نے تھک ہار کر اُسے پیار سے بلایا اور کہا:
"بیٹا، کیا تمہیں پتہ ہے کہ صاف ستھرا گھر کتنا خوبصورت لگتا ہے؟ اگر ہم ہر چیز کو اس کی جگہ پر رکھیں تو ہمیں نہ صرف سکون ملتا ہے بلکہ ہم دوسروں کے لیے بھی آسانی پیدا کرتے ہیں۔"
چھوٹا شہزادہ ہنسا اور بولا:
"ماما، میں تو صرف کھیلتا ہوں، صفائی تو آپ کر لیتی ہیں نا!"
ماما نے نرمی سے اس کے گال تھپتھپائے اور کہا:
"بیٹا، صرف کھیلنا کافی نہیں ہوتا، جو چیزیں ہم استعمال کرتے ہیں، ان کی دیکھ بھال بھی ہماری ذمے داری ہے۔ اگر ہم صفائی نہیں رکھیں گے تو یہ گھر گندا ہو جائے گا، اور ہمیں خود ہی پریشانی ہو گی۔"
لیکن بچے کی شرارتیں کم نہ ہوئیں۔ اگلے دن پھر وہی ہوا۔ کھلونے بکھرے، فرش پر بکھری ہوئی چیزیں، اور ماما کی پریشانی وہی کی وہی۔ آخرکار، ماما نے فیصلہ کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ چھوٹے شہزادے کو صرف کھیلنے کے بجائے ذمے داری بھی سکھائی جائے۔
اگلی صبح، جب وہ ناشتے سے فارغ ہوا تو ماما نے کہا:
"آج سے تم میرے مددگار ہو۔ تم میرے ساتھ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاؤ گے۔"
چھوٹا شہزادہ چونکا،
"میں؟ گھر کے کام؟ لیکن میں تو بچہ ہوں!"
ماما مسکرائیں،
"بچہ ہو، لیکن بہت سمجھدار ہو۔ اور سمجھدار بچے چھوٹے کام کرنا سیکھتے ہیں تاکہ بڑے ہو کر ذمہ دار انسان بن سکیں۔"
یوں چھوٹے شہزادے کی نئی زندگی کا آغاز ہوا۔
وہ صبح ماما کے ساتھ میز صاف کرتا، دوپہر میں برتن ماما کے ساتھ رکھواتا، شام میں ماما کے ساتھ جھاڑو پکڑنے کی مشق کرتا، اور رات کو سونے سے پہلے اپنے کھلونے ترتیب سے رکھتا۔
شروع میں اُسے تھوڑا مشکل لگا، لیکن آہستہ آہستہ اُسے مزا آنے لگا۔ اسے معلوم ہوا کہ جب گھر صاف ہوتا ہے تو کھیلنے میں بھی زیادہ مزہ آتا ہے، کھلونے جلدی مل جاتے ہیں، اور ماما بھی خوش رہتی ہیں۔
ایک دن وہ کھیلنے بیٹھا، اور اچانک کھلونوں کا پورا ڈبہ کمرے میں الٹ گیا۔ ہر طرف پلاسٹک کی گاڑیاں، بلاکس، گیندیں اور چھوٹے چھوٹے جانور بکھر گئے۔ اس نے ایک لمحے کو کھلونوں کو دیکھا، اور پھر ماما کی بات یاد آئی:
"جو چیزیں بکھیرتے ہیں، اُنہیں واپس سمیٹنا بھی ہماری ذمے داری ہے۔"
اب کی بار وہ بولا:
"اگر میں نے یہ سب بکھیر دیے، تو مجھے ہی سمیٹنے پڑیں گے۔"
اس نے خود ہی جھک کر کھلونے چننا شروع کیے۔ کاروں کو ایک طرف، بلاکس کو الگ، گیندوں کو بالٹی میں، اور گڑیا کو اس کے چھوٹے پلنگ پر سلا دیا۔ جب سب کچھ ترتیب سے ہو گیا تو وہ خود کو بہت خوش محسوس کرنے لگا۔
شام کو ماما نے کمرے میں آ کر جب ہر چیز سلیقے سے رکھی دیکھی، تو حیرت سے پوچھا:
"یہ سب تم نے خود کیا؟"
چھوٹے شہزادے نے فخر سے سر ہلایا،
"ہاں ماما! کیونکہ مجھے آپ کی بات یاد آئی تھی۔ میں اب صرف کھیلنے والا بچہ نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار بچہ بھی ہوں!"
ماما نے اسے گلے لگا لیا، اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا:
"میرا بیٹا اب واقعی شہزادہ بن گیا ہے، جو صرف خود کے لیے نہیں، بلکہ اپنے گھر اور ماں باپ کے لیے بھی سوچتا ہے۔"
اب روزانہ کا معمول بن گیا تھا کہ کھیلنے کے بعد کھلونے ترتیب سے رکھے جاتے، کتابیں شیلف پر سجاتی جاتیں، اور گھر ایک خوبصورت، صاف ستھرا اور سکون بھرا گوشہ بن چکا تھا۔
محلے کی آنٹیاں جب اس کے گھر آتیں تو تعریف کرتیں:
"ماشاءاللہ، تمہارا بچہ تو بہت صاف ستھرا اور سلیقہ مند ہے!"
اور ماما فخر سے کہتیں:
"یہ سب میرے چھوٹے شہزادے کا وعدہ ہے، جو اس نے خود سے کیا ہے کہ گھر کو گندا نہیں کرے گا!"
تو پیارے بچوں!
گھر ہماری پہلی تربیت گاہ ہوتا ہے۔ جو بچہ اپنے کھلونوں، کتابوں اور کپڑوں کو سلیقے سے رکھنا سیکھتا ہے، وہ بڑا ہو کر معاشرے کا ذمہ دار فرد بنتا ہے۔ صفائی صرف ظاہری خوبصورتی کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ ہمارے دل و دماغ کو بھی پاکیزہ بناتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم گھر کے کاموں میں ماں باپ کا ہاتھ بٹائیں، اور اپنی ذاتی اشیاء کو ترتیب سے رکھنا سیکھیں۔