منگل 14 اکتوبر 2025
تحریر 13
طوبٰی سعید۔۔ اچھرہ لاہور
ہر دلعزیز انکل چھمی سب بچوں میں بہت ہی مشہور اورپیار کرنے والے انکل ہیں۔۔ شام کے وقت سب بچے انکل چھمی کے پاس بیٹھتے ، ان سے گفتگو اور مشورہ کرتے ، اچھی اچھی باتیں سنتے، کھاتے پیتے اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔
بچوں کو سکول پہنچے ایک ماہ ہوچکا تھا۔ اور اب اکتوبر میں ٹیچرز ڈے آنے والا تھا۔۔ محلے کے سب بچوں نے مل کر ٹیچرز ڈے کو بھرپور انداز میں منانے اور ٹیچرز کی خدمات کو سوچنے اور سمجھنے کی سعی کرنے کی ٹھانی۔
محلے کے تمام چھوٹے اور بڑے بچے انکل چھمی کی خدمت میں حاضر ہوٸے جو شام چھے بجے اپنے دوستوں اور گلی کے لڑکوں کے ہمراہ حسبِ معمول کالی شیراونی اور قاٸد ٹوپی پہنے اور موٹے شیشوں والی عینک لگاٸے بیٹھے استاد کی معاشرے میں اہمیت، فہم و فراست پر گفتگو کررہے تھے۔
”انکل جی انکل جی ہمیں بتاٸیں۔ ہم اپنی سکول اور ٹیوشن ٹیچرز کو کیا کیا تحاٸف دیں اور ٹیچرز ڈے کیسے مناٸیں۔“
انکل چھمی نے سٌنا تو بولے ” بیٹاسب سے پہلے تو ایک بات کہ استاد اور ماں باپ کا کوٸی ایک دن نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر دن ہی ان عظیم رشتوں کاہوتا ہے۔ یہ تو محض اک دن رکھ لیتے ہیں تاکہ اساتذہ کرام اور والدین کو ذہن نشین رکھا جاٸے۔۔ آپ سب نے پہلے بات پر تہیہ کرنا ہے کہ ان کی بہت عزت بجالانی ہے۔ ان کو اف نہیں کرنا۔ ٹھیک ہے ۔ اور وہ شخص جو آپ سب کو کچھ سکھاٸے اور کوٸی بھی معاشرے کا چھوٹا بڑا کام کرٸے۔ آپ کا استاد ہے اور آپ نے ان سب کی عزت کرنی ہے “ انکل چھمی بولے تو سب بچوں نے بغور اس بات کو سمجھ لیا۔۔
پھر دوبارہ انکل چھمی بولے:”اچھا یہ بتاٸیں کہ ہمارے سب سے بڑے معلم کون ہیں؟ “ تو سب بچے تھوڑا سوچنے کے بعد یک زبان ہو کر بولے ” جی ۔ ہمارے سب سے بڑے معلم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ جن کی وجہ سے یہ کاٸنات اللہ پاک نے تخلیق کی ہے۔ “ ” ماشاءاللہ باکل۔۔ آپ سب کو تو یاد ہے۔
آپ ﷺ کا ارشاد ہے بیشک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ “ انکل چھمی نے بچوں کے جواب پہ حدیث سناٸی۔ پھر مزید کہا ” آپ ﷺ نے یہ دعا کی کہ” اے میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما “یعنی علم حاصل کرنے کی دعا مانگی ۔ اور ہم سب کو علم حاصل کرنا چاہیے۔ ہمارے دین میں سب لڑکوں اور لڑکیوں کو علم حاصل کرنے کی ترغیب دی گٸی ہے اور پہلی وحی میں تو بولا ہی گیا ہے ” پڑھ “ تو علم کے حصول سے پیچھے ہٹنا تو بنتا ہی نہیں ہے۔
اس لیے علم حاصل کرو۔ استاد کی عزت کرو۔ جس کا ہمارے پیارے دین میں سب سے پہلے کہا گیا ہے اور ہمیں آپﷺ پر درود و سلام بھیجتے رہنا چاہیے۔ اسی میں عافیت ہے۔“ ۔
”بیشک بیشک۔ بالکل “ پاس بیٹھے انکل شفیق بولے تو سب بچے انکل چھمی کی بات کو پوری توجہ سے سن رہے تھے ۔۔
پھر ایک بچی جس کا نام فضہ تھا بولی ”انکل ہم اپنی ٹیوشن ٹیچر آٸمہ کو پین گفٹ کریں اور ان کے لیے دعوت رکھیں آخر وہ ہم سب محلے کے ڈھیر سارے بچوں کو پڑھاتی لکھاتی ہیں اور امتحانات میں دیر رات تک تیاری بھی کرواتی ہیں اور ہمیں کھانا بھی کھلادیتی ہیں۔ “
”باکل ضرور کرو۔ “ انکل نے کہا ۔ تو سب
بچوں نے اپنے پسندیدہ تحاٸف اساتذہ کرام کو دینے اور تقاریر کرنے کے بارے میں مکمل آگاہ کیا۔ تو وہ بے حد خوش ہوٸے تو اچانک بولے ” ایک منٹ “ سب بچے اور بڑے انکل کی طرف متوجہ ہوٸے۔”کیا ہوا انکل جی“۔ طاہر بولا ۔
”بھٸی ایک استاد ہمارے معاشرے میں ایسا بھی ہے جن سے ہم سب دور بھاگتے ہیں آخر کو وہ بھی ٹیچر ہیں ۔ ہمیں ان کی خدمت کا اعتراف اور عزت کا خیال سب سے پہلے کرنا چاہیے مگر ان کو ہم ہمیشہ ایک حد تک سمجھتے ہیں اور ویسے تو انھیں زیادہ تر بھول جاتے ہیں۔ ان کی تنخواہیں بہت کم ہوتی ہیں۔ لیکن علم کو معاشرے میں پھیلانے اور ہمیں صحیح مسلمان بنانے میں سب سے پہلا کردار ان ہی کا ہے۔“
سب بچے غور میں پڑگٸے کہ آخر کو وہ کون سے ٹیچرز ہیں جن کو ہم یاد نہیں رکھتے تو انکل چھمی نے بتایا ”آپ سب بچوں کی سپارہ پڑھانے والی باجی باجی زینب جو کہ فی سبیل اللہ اپنا فرض ادا کرتی اور قناعت کی زندگی بسر کرتی ہے۔ اور اس کے ساتھ مسجد کے قاری صاحب اور مولوی صاحبان بھی جو ہر روز دن میں پانچ مرتبہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں ہمیں فلاح کی طرف بلاتے ہیں۔
آخر ہم۔انھیں اتنا سخت سمجھتے ہیں کہ انھیں دیکھتے ہی نہیں اور قرآن کی تعلیم جو کہ ہر صورت بنیادی تعلیم ہے۔ ہم صرف ان افراد سے پڑھ لیتےہیں مگر نہ انھیں سمجھتے ہیں اور نہ سمجھ کر پڑھتے ہیں ۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے ” تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھاٸے “ اب بتاٸیں آپ سب کہ جہاں آپکے دوسرے ٹیچرز قابلِ احترام ہیں تو کیا یہ نہیں۔کیا معاشرے میں نہیں رہتے بلکہ نہایت مشکل زندگی بسر کرتے ہیں۔ پھر بھی بغیر کسی خصوصی اجرت کے ہماری دینی تعلیم و تربیت کے فراٸض سر انجام دیتے ہیں۔ مگر ہم نے صرف دنیاوی تعلیم کو خاص جانا ہے۔۔۔“
سب بچے دوبارہ غورمیں پڑ گٸے۔ آخر اکبر بولا
”جی انکل آپ صحیح کہہ رہے کہ آخریہ لوگ آخرت کی زندگی کو سنوارنے کے لیے ہمیں دنیا میں دینی تعلیم اور اسلامی احکامات سے مکمل آگاہ کرتے ہیں۔ مگر ہم انھیں عموماً غریب وغیرہ جان کر دھتکار دیتے ہیں جو کہ غلط ہے۔ مگر یہ ہمیں مارتے بھی تو سخت ہیں ۔۔اس کا کیا کہنا ہے ؟ “
انکل چھمی نے کھڑے ہوکر اکبر کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولے ”دین پیار سے پھیلا تلوار کے زور پر نہیں۔ لیکن اگر ہم دینی تعلیم کو لازمی اور اولین سمجھ کر پڑھیں گے تو یہ ہم پر تلوار نہیں چلاٸیں گے۔ ہدایت کو عقل و دل سے جانیں گے تو پھر مار کی ضرورت کہاں پڑٸے گی؟ آپ انھیں اہمیت دیں گے انھیں ویسا ٹیچر سمجھیں جو ہمارے لیے تعلیمی اداروں اور ٹیوشن اکیڈمیز کے ہیں۔ تو ان میں اور آپ میں خلا ختم ہوجاٸے گا۔“
سب بچوں نے انکل چھمی کی بات کو بغور سمجھ لیا۔۔
ٹیچرز ڈے کے دن تمام بچے تحاٸف لے کراپنے سکول ٹیچرز اور پھر شام میں سب اساتذہ کرام جن میں ٹیوشن ٹیچر آٸمہ اور سپارہ پڑھانے والی باجی زینب کو لے کر اور قاری صاحب فہیم الدین اور دوسرے مولوی صاحبان کو تحاٸف دینے مسجد میں پہنچے ۔اپنی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی معافی اور ان کی خدمات کا بھرپور اعتراف کیا۔۔اور ان تمام ٹیچرز نے بھی بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے دعاٸے خیر کی اور ان سے علم کو دل و جان سے حاصل کر نے کی خواہش ظاہر کی۔
مسجد میں کھانے پینے کے بعد سب بچوں اور تمام اساتذہ کرام نے بھی انکل چھمی کی دانشمندی کا اعتراف کیا۔ جس پر انکل چھمی بہت خوش ہوٸے
فہیم الدین اور دوسرے مولوی صاحبان کو تحاٸف دینے مسجد میں پہنچے ۔اپنی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی معافی اور ان کی خدمات کا بھرپور اعتراف کیا۔۔اور ان تمام ٹیچرز نے بھی بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے دعاٸے خیر کی اور ان سے علم کو دل و جان سے حاصل کر نے کی خواہش ظاہر کی۔
مسجد میں کھانے پینے کے بعد سب بچوں اور تمام اساتذہ کرام نے بھی انکل چھمی کی دانشمندی کا اعتراف کیا۔ جس پر انکل
چھمی بہت خوش ہوٸے ۔
۔۔۔

