چندو کی کہانی
بدھ 20 اگست 2025 📅
04 تحریر
ہماری اردو کہانیاں
پرانے وقتوں کی بات ہے کہربان گاوں میں ایک گھر میں چندو
نامی ایک شخص اور اس کا بھائ اکھٹے رہتے تھے گاوں کے لوگ بہت ظالم اور نا انصافی کرتے اور لڑای جھگڑا کرتے رہتے تھے ۔اور ان کا پیشہ چوریاں کرنا تھا وہ ایک دوسرے سے سخت نفرت کرتے اور اپنے مطلب اور مفاد کے لیے دوسروں کا نقصان کرتے تھے ۔چندو بہت نیک اور رحم انسان تھا ۔ چندو کا بھای سارا دن آرام کرتا ۔ اور چندو سارا دن کھیتی باڑی کرتا ۔ پھر بھی چندو سارا دن خوشی خوشی کام کرتا ۔ ایک دن چندو بیمار ہو گیا ۔ تو اس کے بھای نےچندو سے کہا اٹھو چلو کھیتوں میں کافی کام ہے چندو نے کہا میری طبیعت ٹھیک نہیں ۔ آج میں نہیں جا سکتا تو اس کے بھای نے کہا کام چور کام نا کرنے کا اچھا بہانا ۔ چندو نے کہا بھای میں روزانہ کھیتوں میں کام کرتا اور آپ سارا آرام کرتے ہیں ۔ آج میں بیمار نہیں جاسکتا آج کا دن آپ کھیتوں میں کام کرلیں ۔ جب میں ٹھیک ہو جاوں گا تو میں کام کروں گا۔ چندو کا بھای برے لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے کی وجہ بہت گھمنڈی اور ظالم بن چکا تھا وہ اپنے بھای کا خیال نا رکھتا ۔ اس نے غصے سے کہا ٹھیک ہے چندو تم اپنا سامان لو اور اس گھر سے چلے جاو ۔ اب تمھارے یہاں رہنے کے لیے کوی جگہ نہیں۔ اس کے بھائ نے سامان کا بٹوارہ کیا ساری زمین اور گھر اور ساری گاے بھینسں اپنے نام کر لی اور چندو کو ایک گدھا اور کچھ کھانے کے لیے اناج دے دیا اور گھر سے نکال دیا ۔ چندو نے اپنے بھای کی اس نا انصافی اور ظلم پر خاموش رہا ۔ اور خاموشی سے وہاں سے چل دیا ۔ چندو نے اپنے گھر کی طرف ایک آہ بھری نظر سے دیکھا ۔ اور خدا کو یاد کرکے وہاں سے چل دیا۔ اس وقت گاوں دیہات کیی سو میل دور ہوا کرتے تھے ۔ رستے میں چندو کو ایک درخت پر شہد کی مکھیوں کا ایک چھتہ نظر آیا چندو نے اس چھتے سے شہد اکھٹا کیا تھوڑا شہد کھا یا اور باقی شہد ایک برتن میں محفوظ کر لیا ۔ شہد کھاتے ہی چندو ٹھیک ہو گیا ۔ چلتے چلتے رات ہوگیی چندو ایک بہت جگہ پہنچا جہاں بہت خوبصورت پیڑ پودے اور بہت سے پھلوں کے درخت تھے آس پاس بہت ہری بھری گھاس تھی ۔ چاند روشنی زمین پر پھیل رہی تھی ہر طرف چاند کی روشنی تھی ۔ اس خوبصورت جگہ پر پریاں آتی تھی ۔ ایک دفعہ ایک پری وہاں سیر کرہی تھی تو اس کی انگھوٹھی گم ہو گیی ۔ پری بہت پریشان ہوی ۔ پاس ہی درخت پر ایک سہنری چڑیا اور اس کے بچے رہتے تھے ۔ چڑیا نے پری سے کہا ۔ تم کون ہو ۔ اور یہاں کیا کرہی ہو ؟ پری نے کہا میرانام سونم ہے اور میں ایک پری ہوں ۔ میری انگوٹھی یہاں گم ہو گیی ہے ۔ چڑیا نے پری کی انگھوٹھی تلاش کرنے میں اس کی مدد کی اور پری کی انگھوٹھی مل گیی ۔ پری نے چڑیا کو تحفے میں سونے کا پیالہ دیا جو بہت خوبصورت قیمتی ھیروں اور موتیوں سے بنا تھا ۔ چڑیا بہت خوش ہوی ۔ پری نے چڑیا سے کہا جب کوی مشکل وقت میں تمھاری مدد کرے تم بھی اسے تحفے میں کچھ دے دینا ۔ پری اڑ گیی چڑیا نے وہ سونے کا پیالہ درخت کے پاس گھنی جھاڑیوں میں چھپا دیا ۔ جب چندو اس درخت کے پاس پہنچا تو وہ تھک چکا تھا ۔ اس نے سوچا یہ بہت خوبصورت اور پرسکون جگہ ہے رات گزارنے کے لیے بہت اچھی جگہ ہے ۔ چندو نے گدھے کے اوپر سے سامان اتارا اور زمین پر رکھ دیا اور درخت کے نیچے بیٹھ گیا ۔ درخت کے اوپر سے ایک خوبصورت چڑیا کی آواز سنائی دی ۔ چڑیا نے چندو سے پوچھا تم کون ہو؟ چندو نے چڑیا سے کہا ایک مسافر ہوں ۔ میرا نام چندو ہے ۔ چڑیا اور اس کے بچے بہت بھوکے تھے ۔ چڑیا نے چندو سے کہا کیا تمھارے کھانے کے لیے کچھ ہے ۔ چندو نے اپنے اناج سے چڑیا کے لیے بہت سے اناج چڑیا کو کھانے کے لیے دیا ۔ وہ اتنا اناج تھا. چڑیا کیی ماہ تک اس اناج کے دانوں سے اپنا اور اپنے بچوں کو پال سکتی تھی . چڑیا بہت خوش ہوی ۔ چڑیا کو پری کی بات یاد آی ۔ چڑیا نے چندو کو وہ سونے کا پیالہ دیا ۔ جو پری نے چڑیا کو دیا تھا ۔ چندو اتنا قیمتی پیالہ لے کر پاس خوش ہوا ۔ چڑیا نے چڑیا نے چندو سے کہا جب تمھارے ساتھ کوی نیکی کرے تم اس کو تحفہ دینا ۔ رات گزری دن ہو گیا ۔ چندو وہاں سے چل دیا ۔ چلتے چلتے وہ ایک گاوں میں پہنچا ۔ جس کا نام ندیا پور تھا گاوں کے لوگ بہت اچھے تھے ۔ چندو جب اس گاوں میں پہنچا ۔ تو لوگوں نے اس سے پوچھا کیا تم کوی مسافر ہو ۔ چندو نے سب حال بتایا ۔گاوں کے لوگوں نے چندو سے کہا ۔ تم اس گاوں میں رہ سکتے ہو ۔ گاوں والوں نے مل کر چندو کے لیے ایک مٹی کا کچا چھوٹا سا گھر بنایا ۔ چندو کے پاس کچھ اناج تھا ۔ اس نے اس اناج سے گزر بسر کیا ۔ گاوں کہیں آس پاس پانی نہیں تھا ۔ لوگ دور ندی سے پانی بھر لاتے تھے ۔ گاوں کے لوگوں کے اچھے برتاو کی وجہ چندو نے ان کے لیے پانی بندوبست کرنے کا سوچا ۔ لیکن اس کے لیے بہت زیادہ پیسوں کی ضرورت تھی ۔ چندو کو چڑیا کی وہ بات یاد آی اس نے وہ سونے کا پیالہ فروخت کرنے کا سوچا ۔ گاوں سے تھوڑا ہی دور ایک چھوٹا قصبہ تھا جہاں ایک مالدار تاجر رہتا تھا ۔ چندو وہ سونے کا پیالہ اس تاجر کو بھاری قیمت میں فروخت کیا ۔ چندو بہت امیر ہو گیا ۔ اور گاوں میں لوگوں کے لیے کنواں کھودوایا ۔ چندو کے اس کام گاوں والے بہت خوش ہوے گاوں جتنے بھی غریب لوگ تھے چندو نے انھیں پیسے دیے تاکہ وہ اپنے لیے ضرورت کی اشیاہ خرید سکیں ۔ پانی کے کنوے کی وجہ سے لوگوں نے. گاوں میں کھیتی باڑی شروع کی بہت جلد لوگوں کے بہت اناج اگنا شروع ہوا گاوں کے لوگ خوشحال ہو گیے ۔ گاوں کے لوگوں نے چندو کو گاوں کا سردار بنایا اور وہ ہمیشہ چندو کی بات مانتے ۔ اودھر کہربان گاوں میں سیلاب آگیا ۔ چندو کابھای اور گاوں کے لوگوں گھر سیلاب مین ڈوب گیے اور مال مویشی بھی پانی مین بہہ گیے ۔ کہربان گاوں میں ہر طرف تباہی ہوی ۔ سب لوگ گاوں چھوڑ کر دور دراز کسی محفوظ مقام کی تلاش میں نکلے چندو کا بھای بھی ندیا پور گاوں کی طرف آیا ۔ بھوکا پیاسا ۔ جب گاوں میں پہنچا ۔ تو گاوں والوں نے اسے کہا ۔ ہم تمھیں اپنے سردار کے پاس لے جایئں گے وہ تمھاری مددکر ے گا ۔ چندو کابھای جب چندو کے پاس پہنچاتو اس نے دیکھا چندو ایک عالی شان زندگی گزار رہا ہے ۔ تو وہ بہت شرمندہ ہوا ۔ اور اس نے چندو سے معافی مانگی ۔ چندو نے اسے معاف کر دیا اور اسے سمجھایا ۔ ظلم اور نا انصافی کرنے والے کو ہمیشہ سزا ملتی ہے ۔ کہربان کے لوگوں پر قدرت کی طرف سے عذاب آیا جو دوسروں پر ظلم کرتے تھے ۔ چندو نے اپنے بھای کو اپنے گھر میں رہنے کے لیے جگہ دی ۔ چندو کے بھای نے وعدہ کیا کہ وہ آج کے بعد کسی پر ظلم نہیں کرے گا اور ناہی ناانصافی اس دن سے دونوں بھائ مل جل کر رہنے لگے ۔
اس کہانی سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے ۔ کھبی بھی برے لوگوں کی محفل میں نہیں بیٹھنا چاہیے اور نا دوسروں پر ظلم کرنا چاہیے ۔
پیارے بچو اگر اپ کو کہانی پسند ای ہو تو کمنٹ میں بتایں اور پیج کو لایک اور فالو کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں شکریہ

